ہمدرد ایک ممتاز اردو اخبار تھا جسے مولانا محمد علی جوہر نے 1913ء میں دہلی سے جاری کیا۔ یہ اخبار برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی، سماجی اور تعلیمی بیداری میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔ مولانا محمد علی جوہر ایک نامور صحافی، سیاست دان، ادیب اور تحریکِ آزادی کے سرگرم رہنما تھے۔ انہوں نے ہمدرد کے ذریعے برطانوی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی، مسلمانوں کے حقوق کی بھرپور وکالت کی، اور قومی شعور کو فروغ دیا۔ بعد ازاں یہ اخبار تحریکِ خلافت اور تحریکِ آزادی کا ایک مؤثر ترجمان بن گیا۔
مولانا محمد علی جوہر نے انگریزی زبان میں Comrade اخبار بھی جاری کیا، جبکہ ہمدرد اردو زبان میں شائع ہوتا تھا تاکہ عام مسلمانوں تک سیاسی اور قومی پیغام مؤثر انداز میں پہنچ سکے۔ ان کی صحافتی خدمات نے برصغیر میں آزادی کی تحریک کو تقویت دی، جس کے باعث انہیں کئی مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ صحافت اور تحریکِ آزادی میں ان کی خدمات پاکستان اور برصغیر کی تاریخ کا ایک اہم باب سمجھی جاتی ہیں۔
دیگر اختیارات کیوں غلط ہیں:
- مولانا آزاد نے الہلال اور البلاغ جیسے معروف اخبارات جاری کیے، ہمدرد نہیں۔
- مولانا ظفر علی خاں معروف اخبار زمیندار کے مدیر اور مالک تھے، نہ کہ ہمدرد کے۔
- شوکت علی تحریکِ خلافت کے اہم رہنما تھے، لیکن ہمدرد اخبار کے بانی یا ناشر نہیں تھے۔