Urdu MCQs Urdu MCQs provide solved multiple-choice questions related to Urdu grammar, poetry, prose, idioms, synonyms, antonyms, and literary history . These questions are specially designed for competitive exams such as PPSC, FPSC, CSS, PMS, SPSC, KPPSC, NTS, OTS, and other government job tests . By practicing these MCQs, candidates can strengthen their knowledge of Urdu language rules, famous poets, writers, important books, and literary movements . This collection is highly useful for students, teachers, and job seekers preparing for academic exams or recruitment tests.
A.
بات
B.
یاد
C.
شام
D.
رات
Correct answer is:
A. بات
Read Detailed Explanation
درست جواب: بات۔ مثل ہے: “رات گئی بات گئی”، یعنی وقت گزرنے کے ساتھ پرانی بات ختم ہو جاتی ہے۔
پس منظر: یہ مثل بیتی ہوئی بات بھلا دینے کے لیے بولی جاتی ہے۔
یاد: “یاد” مثل میں نہیں آتا۔شام: “شام” مثل میں نہیں آتا۔رات: “رات” پہلے ہی مثل میں موجود ہے۔کیا آپ جانتے ہیں؟ انگریزی میں اس کا مفہوم “Let bygones be bygones” ہے۔
یاد رکھنے کی ترکیب: رات گئی = بات گئی۔
0 % agree
Do you agree with this answer?
A.
ہاتھ
B.
پاؤں
C.
کان
D.
آنکھ
Correct answer is:
B. پاؤں
Read Detailed Explanation
درست جواب: پاؤں۔ مثل ہے: “جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے”، یعنی جھوٹ زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔
پس منظر: جس کے پاؤں نہ ہوں وہ چل نہیں سکتا، اسی طرح جھوٹ زیادہ نہیں چلتا۔
ہاتھ: “ہاتھ” مثل کا لفظ نہیں ہے۔کان: “کان” مثل کا لفظ نہیں ہے۔آنکھ: “آنکھ” مثل کا لفظ نہیں ہے۔کیا آپ جانتے ہیں؟ اس کا مفہوم ہے: “سچ سامنے آ کر رہتا ہے”۔
یاد رکھنے کی ترکیب: جھوٹ کے پاؤں نہیں۔
0 % agree
Do you agree with this answer?
A.
اسمِ ضمیر
B.
اسمِ اشارہ
C.
صفت
D.
فعل
Correct answer is:
A. اسمِ ضمیر
Read Detailed Explanation
درست جواب: اسمِ ضمیر۔ “وہ” اسم کی جگہ آیا ہے، اس لیے یہ اسمِ ضمیر ہے۔
پس منظر: ضمیر کی تین بڑی قسمیں ہیں: متکلم، مخاطب اور غائب۔
اسمِ اشارہ: اسمِ اشارہ کسی چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے۔صفت: صفت اسم کی خوبی بتاتی ہے، جیسے دور اندیش۔فعل: فعل کام کو ظاہر کرتا ہے۔کیا آپ جانتے ہیں؟ “وہ” ضمیرِ غائب ہے۔
یاد رکھنے کی ترکیب: اسم کی جگہ = ضمیر۔
0 % agree
Do you agree with this answer?
A.
آرام کرنا
B.
تنگ کرنا
C.
گھر گھر پھرنے والی عورت
D.
کوئی نہیں
Correct answer is:
C. گھر گھر پھرنے والی عورت
Read Detailed Explanation
درست جواب: گھر گھر پھرنے والی عورت۔ “جلے پاؤں کی بلی” سے مراد ہے بے چین ہو کر گھر گھر پھرنے والی عورت۔
پس منظر: جس بلی کے پاؤں جل جائیں وہ ایک جگہ ٹک نہیں سکتی۔
آرام کرنا: آرام کرنا اس کے برعکس ہے۔تنگ کرنا: تنگ کرنا اس کا مطلب نہیں ہے۔کوئی نہیں: “کوئی نہیں” غلط ہے کیونکہ گھر گھر پھرنے والی عورت درست ہے۔کیا آپ جانتے ہیں؟ یہ محاورہ بے قرار شخص کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔
یاد رکھنے کی ترکیب: جلے پاؤں = بے قراری۔
0 % agree
Do you agree with this answer?
A.
کانٹا
B.
پتھر
C.
ہاتھ
D.
کوئی نہیں
Correct answer is:
B. پتھر
Read Detailed Explanation
درست جواب: پتھر۔ محاورہ ہے: “دل پر پتھر رکھنا”، یعنی صبر اور ضبط سے مشکل فیصلہ کرنا۔
پس منظر: پتھر بھاری ہوتا ہے، اس لیے یہ محاورہ بڑے دکھ پر صبر کے لیے بولا جاتا ہے۔
کانٹا: “دل پر کانٹا” محاورے کا حصہ نہیں ہے۔ہاتھ: “دل پر ہاتھ” محاورے کا حصہ نہیں ہے۔کوئی نہیں: “کوئی نہیں” غلط ہے کیونکہ پتھر درست ہے۔کیا آپ جانتے ہیں؟ اس کا مطلب ہے: دل مضبوط کر کے ایسا کرنا۔
یاد رکھنے کی ترکیب: دل پر پتھر = صبر۔
0 % agree
Do you agree with this answer?
A.
صلح ہونا
B.
خاموشی ہونا
C.
جھگڑا دونوں طرف سے ہونا
D.
ایک طرف سے جھگڑا ہونا
Correct answer is:
C. جھگڑا دونوں طرف سے ہونا
Read Detailed Explanation
درست جواب: جھگڑا دونوں طرف سے ہونا۔ اس ضرب المثل کا مطلب ہے کہ لڑائی میں قصور دونوں طرف کا ہوتا ہے۔
پس منظر: تالی بجانے کے لیے دونوں ہاتھ چاہیے ہوتے ہیں۔
صلح ہونا: ضرب المثل کا مطلب صلح ہونا نہیں ہے۔خاموشی ہونا: ضرب المثل کا مطلب خاموشی ہونا نہیں ہے۔ایک طرف سے جھگڑا ہونا: ضرب المثل اس کے برعکس ہے: جھگڑا ایک طرف سے نہیں ہوتا۔کیا آپ جانتے ہیں؟ اس کا انگریزی مفہوم ہے: “It takes two to tango”۔
یاد رکھنے کی ترکیب: تالی = دو ہاتھ = دو فریق۔
100 % agree
Do you agree with this answer?
A.
پیار سے مان جانا
B.
اوقات سے باہر ہونا
C.
شریر لوگ شرافت سے نہیں مانتے
D.
کوئی نہیں
Correct answer is:
C. شریر لوگ شرافت سے نہیں مانتے
Read Detailed Explanation
درست جواب: شریر لوگ شرافت سے نہیں مانتے۔ اس ضرب المثل کا مطلب ہے کہ شریر لوگ نرمی اور شرافت سے نہیں مانتے، سختی ہی سے سیدھے ہوتے ہیں۔
پس منظر: “لات” سے مراد سختی یا سزا ہے۔
پیار سے مان جانا: ضرب المثل کا مطلب پیار سے ماننا نہیں ہے۔اوقات سے باہر ہونا: ضرب المثل کا مطلب اوقات سے باہر ہونا نہیں ہے۔کوئی نہیں: “کوئی نہیں” غلط ہے کیونکہ شریر لوگ شرافت سے نہیں مانتے درست ہے۔کیا آپ جانتے ہیں؟ ایسی ہی ایک مثل ہے: “سیدھی انگلی سے گھی نہیں نکلتا”۔
یاد رکھنے کی ترکیب: بھوت = شریر؛ لات = سختی۔
100 % agree
Do you agree with this answer?
A.
ہاتھی
B.
سانپ
C.
چیونٹی
D.
ہرن
Correct answer is:
C. چیونٹی
Read Detailed Explanation
درست جواب: چیونٹی۔ مثل ہے: “وقت آنے پر چیونٹی کے بھی پر نکل آتے ہیں”، یعنی کمزور آدمی بھی کبھی حد سے بڑھ جاتا ہے۔
پس منظر: چیونٹی کے پر اس وقت نکلتے ہیں جب اس کی موت قریب ہو۔
ہاتھی: ہاتھی کے ساتھ یہ مثل نہیں بولی جاتی۔سانپ: سانپ کے ساتھ یہ مثل نہیں بولی جاتی۔ہرن: ہرن کے ساتھ یہ مثل نہیں بولی جاتی۔کیا آپ جانتے ہیں؟ اس مثل کا مطلب ہے کہ غرور کا انجام برا ہوتا ہے۔
یاد رکھنے کی ترکیب: چھوٹی چیونٹی کے پر = حد سے نکلنا۔
100 % agree
Do you agree with this answer?
A.
متوقع فائدہ
B.
غیر متوقع فائدہ
C.
دوڑنا
D.
ان میں سے کوئی نہیں
Correct answer is:
B. غیر متوقع فائدہ
Read Detailed Explanation
درست جواب: غیر متوقع فائدہ۔ اس ضرب المثل کا مطلب ہے بغیر کوشش کے اچانک فائدہ ہو جانا۔
پس منظر: چھینکا وہ رسی کا جھولا ہے جس میں کھانا لٹکایا جاتا ہے۔ اس کے ٹوٹنے سے بلی کو کھانا مل جاتا ہے۔
متوقع فائدہ: فائدہ بغیر توقع کے ہوتا ہے، اس لیے “متوقع” غلط ہے۔دوڑنا: اس ضرب المثل کا مطلب دوڑنا نہیں ہے۔ان میں سے کوئی نہیں: “ان میں سے کوئی نہیں” غلط ہے کیونکہ غیر متوقع فائدہ درست ہے۔کیا آپ جانتے ہیں؟ اس مفہوم میں “اندھے کے ہاتھ بٹیر لگنا” بھی بولا جاتا ہے۔
یاد رکھنے کی ترکیب: چھینکا ٹوٹا = اچانک فائدہ۔
100 % agree
Do you agree with this answer?
A.
نقصان اٹھانا
B.
وقت کی قدر کرنا
C.
قیمتی چیز ہاتھ آنا
D.
ان میں سے کوئی نہیں
Correct answer is:
C. قیمتی چیز ہاتھ آنا
Read Detailed Explanation
درست جواب: قیمتی چیز ہاتھ آنا۔ “سونے کی چڑیا ہاتھ لگنا” کا مطلب ہے کوئی قیمتی چیز یا بڑا فائدہ حاصل ہونا۔
پس منظر: یہ محاورہ عام طور پر مال دار شخص کے ہاتھ آنے کے لیے بولا جاتا ہے۔
نقصان اٹھانا: محاورے کا مطلب نقصان اٹھانا نہیں ہے۔وقت کی قدر کرنا: محاورے کا مطلب وقت کی قدر کرنا نہیں ہے۔ان میں سے کوئی نہیں: “ان میں سے کوئی نہیں” غلط ہے کیونکہ قیمتی چیز ہاتھ آنا درست ہے۔کیا آپ جانتے ہیں؟ ہندوستان کو بھی کبھی “سونے کی چڑیا” کہا جاتا تھا۔
یاد رکھنے کی ترکیب: سونے کی چڑیا = بڑا خزانہ۔
0 % agree
Do you agree with this answer?
A.
ڈوب جانا
B.
تیرنے سے ڈرنا
C.
کنارا تلاش کرنا
D.
مصیبت میں تھوڑی سی مدد بھی بہت بڑی معلوم ہوتی ہے
Correct answer is:
D. مصیبت میں تھوڑی سی مدد بھی بہت بڑی معلوم ہوتی ہے
Read Detailed Explanation
درست جواب: مصیبت میں تھوڑی سی مدد بھی بہت بڑی معلوم ہوتی ہے۔ اس ضرب المثل کا مطلب ہے کہ مصیبت میں تھوڑی سی مدد بھی بہت بڑی معلوم ہوتی ہے۔
پس منظر: ڈوبنے والا شخص ہر ممکن سہارا پکڑ لیتا ہے۔
ڈوب جانا: ضرب المثل کا مطلب صرف ڈوب جانا نہیں ہے۔تیرنے سے ڈرنا: ضرب المثل کا مطلب تیرنے سے ڈرنا نہیں ہے۔کنارا تلاش کرنا: ضرب المثل کا مطلب کنارا تلاش کرنا نہیں ہے۔کیا آپ جانتے ہیں؟ انگریزی میں اس کے لیے “a drowning man will clutch at a straw” کہا جاتا ہے۔
یاد رکھنے کی ترکیب: ڈوبتے کو تنکا = تھوڑی مدد بھی بڑی۔
100 % agree
Do you agree with this answer?
A.
اسم
B.
حرف
C.
فعل
D.
کوئی نہیں
Correct answer is:
C. فعل
Read Detailed Explanation
درست جواب: فعل۔ جس لفظ سے کسی کام کا کرنا یا ہونا کسی زمانے (ماضی، حال، مستقبل) کے ساتھ معلوم ہو اسے فعل کہتے ہیں۔
پس منظر: کلمے کی تین قسمیں ہیں: اسم، فعل اور حرف۔
اسم: اسم کسی شخص، جگہ یا چیز کا نام ہوتا ہے۔حرف: حرف ایسا لفظ ہے جو اکیلا معنی نہیں دیتا۔کوئی نہیں: “کوئی نہیں” غلط ہے کیونکہ فعل درست جواب ہے۔کیا آپ جانتے ہیں؟ فعل کی تین بڑی اقسام ماضی، حال اور مستقبل ہیں۔
یاد رکھنے کی ترکیب: کام + زمانہ = فعل۔
100 % agree
Do you agree with this answer?
A.
مرکب
B.
جملہ
C.
تابع مہمل
D.
محاورہ
Correct answer is:
C. تابع مہمل
Read Detailed Explanation
درست جواب: تابع مہمل۔ بامعنی لفظ کے ساتھ بے معنی لفظ ملا کر بنایا گیا لفظ تابع مہمل کہلاتا ہے، جیسے کھانا وانا۔
پس منظر: تابع مہمل کا دوسرا لفظ بے معنی ہوتا ہے اور پہلے لفظ کی تاکید کے لیے آتا ہے۔
مرکب: مرکب دو یا زیادہ الفاظ کے ملنے سے بنتا ہے جن کا معنی مل کر ایک بنتا ہے۔جملہ: جملہ مکمل بات کہنے والے الفاظ کے مجموعے کو کہتے ہیں۔محاورہ: محاورہ ایسا جملہ ہے جو اصل معنی کے بجائے خاص معنی دے۔کیا آپ جانتے ہیں؟ مثالیں: چائے وائے، پانی وانی۔
یاد رکھنے کی ترکیب: تابع مہمل = ایک لفظ بامعنی + ایک بے معنی۔
0 % agree
Do you agree with this answer?
A.
نفرت ہونا
B.
عشق ہونا
C.
رازدار ہونا
D.
قیمت ادا کرنا
Correct answer is:
B. عشق ہونا
Read Detailed Explanation
درست جواب: عشق ہونا۔ “لاگ لگنا” کا مطلب ہے لگاؤ یا محبت ہو جانا۔
پس منظر: “لاگ” کا ایک معنی لگاؤ ہے۔
نفرت ہونا: نفرت ہونا اس کے برعکس ہے۔رازدار ہونا: رازدار ہونا اس محاورے کا مطلب نہیں ہے۔قیمت ادا کرنا: قیمت ادا کرنا اس محاورے کا مطلب نہیں ہے۔کیا آپ جانتے ہیں؟ “لگاؤ” اور “لاگ” ایک ہی مادے سے بنے ہیں۔
یاد رکھنے کی ترکیب: لاگ لگنا = لگاؤ ہونا۔
0 % agree
Do you agree with this answer?
A.
پانی آنا
B.
چمک آنا
C.
آنسو آنا
D.
کوئی نہیں
Correct answer is:
B. چمک آنا
Read Detailed Explanation
درست جواب: چمک آنا۔ “آب آنا” کا مطلب ہے چمک آنا، رونق یا تازگی آ جانا۔
پس منظر: فارسی میں “آب” کا ایک مطلب چمک اور رونق بھی ہے۔
پانی آنا: یہاں “آب” کا مطلب پانی نہیں بلکہ چمک ہے۔آنسو آنا: آنسو آنے کے لیے یہ محاورہ نہیں بولا جاتا۔کوئی نہیں: “کوئی نہیں” غلط ہے کیونکہ چمک آنا درست جواب ہے۔کیا آپ جانتے ہیں؟ موتی کی آب سے مراد اس کی چمک ہوتی ہے۔
یاد رکھنے کی ترکیب: آب = چمک۔
0 % agree
Do you agree with this answer?
A.
اسم
B.
کلمہ
C.
فعل
D.
حرف
Correct answer is:
B. کلمہ
Read Detailed Explanation
درست جواب: کلمہ۔ اکیلا بامعنی لفظ کلمہ کہلاتا ہے۔
پس منظر: کلمے کی تین قسمیں ہیں: اسم، فعل اور حرف۔
اسم: اسم کلمہ کی ایک قسم ہے۔فعل: فعل بھی کلمہ کی ایک قسم ہے۔حرف: حرف بھی کلمہ کی ایک قسم ہے۔کیا آپ جانتے ہیں؟ جملہ کلموں کے ملنے سے بنتا ہے۔
یاد رکھنے کی ترکیب: کلمہ = ایک لفظ بامعنی۔
0 % agree
Do you agree with this answer?
A.
دریا
B.
سمندر
C.
سورج
D.
شام
Correct answer is:
D. شام
Read Detailed Explanation
درست جواب: شام۔ “شام” مؤنث ہے، جیسے “شام آئی”۔
پس منظر: اردو میں ہر اسم یا مذکر ہوتا ہے یا مؤنث۔
دریا: “دریا” مذکر ہے۔سمندر: “سمندر” مذکر ہے۔سورج: “سورج” مذکر ہے۔کیا آپ جانتے ہیں؟ صبح بھی مؤنث ہے، مگر دن اور دوپہر مذکر ہیں۔
یاد رکھنے کی ترکیب: شام آئی (مؤنث)، سورج نکلا (مذکر)۔
100 % agree
Do you agree with this answer?
A.
لاحقہ
B.
مہمل
C.
سابقہ
D.
None of these
Correct answer is:
C. سابقہ
Read Detailed Explanation
درست جواب: سابقہ۔ جو حرف یا لفظ کسی لفظ کے شروع میں لگ کر نیا معنی پیدا کرے اسے سابقہ کہتے ہیں، جیسے بے + وفا = بے وفا۔
پس منظر: سابقہ اور لاحقہ دونوں اردو میں نئے الفاظ بنانے کا ذریعہ ہیں۔
لاحقہ: لاحقہ لفظ کے آخر میں لگتا ہے۔مہمل: مہمل بے معنی لفظ کو کہتے ہیں۔None of these: “کوئی نہیں” غلط ہے کیونکہ سابقہ درست جواب ہے۔کیا آپ جانتے ہیں؟ لاحقے کی مثال: “ناک” میں “دار” لگا کر “خوشبودار”۔
یاد رکھنے کی ترکیب: سابقہ = پہلے، لاحقہ = بعد میں۔
0 % agree
Do you agree with this answer?
A.
خوشی کا اظہار
B.
انہونی ہونا
C.
اشیاء کا راز ملنا
D.
کوئی نہیں
Correct answer is:
B. انہونی ہونا
Read Detailed Explanation
درست جواب: انہونی ہونا۔ “گولر کا پھول ہونا” کا مطلب ہے انہونی بات ہونا، یعنی ایسی چیز جو بہت کم یا کبھی نظر نہ آئے۔
پس منظر: گولر کے درخت کا پھول عام طور پر نظر نہیں آتا، اسی لیے یہ محاورہ بنا۔
خوشی کا اظہار: یہ محاورہ خوشی کے اظہار کے لیے نہیں بولا جاتا۔اشیاء کا راز ملنا: یہ محاورہ راز ملنے کے لیے نہیں بولا جاتا۔کوئی نہیں: “کوئی نہیں” غلط ہے کیونکہ انہونی ہونا درست جواب ہے۔کیا آپ جانتے ہیں؟ اسی مفہوم میں “عید کا چاند ہونا” بھی بولا جاتا ہے۔
یاد رکھنے کی ترکیب: گولر کا پھول = انہونی/نایاب۔
100 % agree
Do you agree with this answer?
A.
لقب
B.
تخلص
C.
کنیت
D.
خطاب
Correct answer is:
C. کنیت
Read Detailed Explanation
درست جواب: کنیت۔ جو نام ابو، ام یا ابن جیسی رشتے کی نسبت سے بنایا جائے اسے کنیت کہتے ہیں۔
پس منظر: ابوتراب حضرت علیؓ کی کنیت مشہور ہے۔
لقب: لقب کسی خاص صفت کی بنا پر دیا جانے والا نام ہوتا ہے۔تخلص: تخلص شاعر کا قلمی نام ہوتا ہے۔خطاب: خطاب حکومت یا کسی ادارے کی طرف سے عطا کیا جانے والا نام ہوتا ہے۔کیا آپ جانتے ہیں؟ ابولہب کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا۔
یاد رکھنے کی ترکیب: ابو/ام کا نام = کنیت۔
0 % agree
Do you agree with this answer?
A.
اسمِ معرفہ
B.
اسمِ نکرہ
C.
اسمِ ضمیر
D.
اسمِ اشارہ
Correct answer is:
B. اسمِ نکرہ
Read Detailed Explanation
درست جواب: اسمِ نکرہ۔ کسی غیر معین (نامعلوم) شخص یا چیز کے نام کو اسمِ نکرہ کہتے ہیں، جیسے لڑکا، کتاب۔
پس منظر: اسم کی اقسام میں معرفہ اور نکرہ بنیادی تقسیم ہیں۔
اسمِ معرفہ: اسمِ معرفہ کسی معین (خاص) شخص یا چیز کا نام ہوتا ہے۔اسمِ ضمیر: ضمیر اسم کی جگہ آتی ہے، جیسے وہ، میں۔اسمِ اشارہ: اسمِ اشارہ کسی چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے، جیسے یہ، وہ۔کیا آپ جانتے ہیں؟ “کتاب” نکرہ ہے، مگر “یہ کتاب” معرفہ بن جاتی ہے۔
یاد رکھنے کی ترکیب: نکرہ = نامعلوم۔
100 % agree
Do you agree with this answer?
A.
طلوع ہونا
B.
مرنے کے قریب ہونا
C.
غروب ہونا
D.
چمکنا
Correct answer is:
B. مرنے کے قریب ہونا
Read Detailed Explanation
درست جواب: مرنے کے قریب ہونا۔ “لب پر جان آنا” کا مطلب ہے مرنے کے قریب ہونا۔
پس منظر: یہ محاورہ انتہائی تکلیف یا موت کے قریب ہونے کی کیفیت بتاتا ہے۔
طلوع ہونا: طلوع ہونا سورج یا چاند کے نکلنے کو کہتے ہیں۔غروب ہونا: غروب ہونا ڈوبنے کو کہتے ہیں۔چمکنا: چمکنا روشنی دینے کو کہتے ہیں۔کیا آپ جانتے ہیں؟ اسی مفہوم میں “جان کنی” بھی بولا جاتا ہے۔
یاد رکھنے کی ترکیب: لب پر جان = دم نکلنے کے قریب۔
100 % agree
Do you agree with this answer?
A.
خطاب
B.
کنیت
C.
تخلص
D.
لقب
Correct answer is:
B. کنیت
Read Detailed Explanation
درست جواب: کنیت۔ جو نام رشتے کی نسبت (ابو، ام، ابن) سے رکھا جائے اسے کنیت کہتے ہیں، جیسے ابوالکلام۔
پس منظر: عربی میں کنیت عام ہے، جیسے ابو بکر۔
خطاب: خطاب وہ اعزازی نام ہے جو حکومت یا کوئی ادارہ عطا کرتا ہے۔تخلص: تخلص وہ نام ہے جو شاعر اپنے کلام میں استعمال کرتا ہے۔لقب: لقب کسی خاص صفت یا کارنامے کی بنا پر دیا جانے والا نام ہے۔کیا آپ جانتے ہیں؟ کنیت، تخلص، لقب اور خطاب اردو میں ناموں کی اہم اقسام ہیں۔
یاد رکھنے کی ترکیب: کنیت = ابو/ام کی نسبت۔
0 % agree
Do you agree with this answer?
A.
گندم
B.
گھن
C.
چکی
D.
چاول
Correct answer is:
B. گھن
Read Detailed Explanation
درست جواب: گھن۔ مثل ہے: “گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے”، یعنی گناہگار کے ساتھ بے گناہ بھی مصیبت میں آ جاتا ہے۔
پس منظر: گھن ایک کیڑا ہے جو اناج کو کھا جاتا ہے۔
گندم: گندم اور گیہوں ایک ہی چیز ہیں، اس لیے یہ خالی جگہ نہیں بھرتا۔چکی: چکی وہ چیز ہے جس میں آٹا پیسا جاتا ہے، جو پسنے والی چیز نہیں۔چاول: چاول مثل کا حصہ نہیں ہے۔کیا آپ جانتے ہیں؟ یہ مثل اس وقت بولی جاتی ہے جب بے قصور شخص بھی سزا میں شامل ہو جائے۔
یاد رکھنے کی ترکیب: گیہوں + گھن = بے قصور بھی پس جائے۔
100 % agree
Do you agree with this answer?
A.
اسمِ معرفہ
B.
ضمیر
C.
اسمِ نکرہ
D.
اسمِ اشارہ
Correct answer is:
B. ضمیر
Read Detailed Explanation
Correct answer: ضمیر. جو لفظ کسی اسم کی جگہ استعمال ہو اسے ضمیر کہتے ہیں، جیسے وہ، میں، تم۔
پس منظر: ضمیر کی تین بڑی قسمیں ہیں: ضمیرِ متکلم (میں، ہم)، ضمیرِ مخاطب (تم، آپ) اور ضمیرِ غائب (وہ، یہ)۔
اسمِ معرفہ: اسمِ معرفہ کسی خاص شخص یا چیز کا نام ہوتا ہے۔اسمِ نکرہ: اسمِ نکرہ کسی غیر معین شخص یا چیز کا نام ہوتا ہے۔اسمِ اشارہ: اسمِ اشارہ کسی چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے، جیسے یہ، وہ۔کیا آپ جانتے ہیں؟ “ضمیر” کا ایک مطلب باطن یا دل بھی ہے۔
یاد رکھنے کی ترکیب: ضمیر = اسم کا نائب۔
100 % agree
Do you agree with this answer?