Correct Answer:
C. اسم مصدر
اردو قواعد میں، وہ لفظ جو خود کسی اسم سے نہ بنا ہو لیکن اس سے مقررہ قواعد کے مطابق بہت سے دوسرے الفاظ (جیسے اسم فاعل، اسم مفعول، وغیرہ) بنائے جا سکیں، اسم مصدر کہلاتا ہے۔ مصدر فعل کی بنیاد ہوتا ہے اور اس میں کام کا مفہوم پایا جاتا ہے، جیسے "لکھنا" سے "لکھنے والا" (اسم فاعل) اور "لکھا ہوا" (اسم مفعول) بنتے ہیں۔
- اسم مصدر (C): یہ وہ بنیادی لفظ ہے جس سے افعال اور دیگر مشتقات بنتے ہیں۔ یہ خود کسی سے نہیں بنتا بلکہ دوسروں کی بنیاد ہوتا ہے۔
- اسم فاعل (A): یہ وہ اسم ہے جو کام کرنے والے کو ظاہر کرتا ہے، جیسے "لکھنے والا"۔ یہ مصدر سے بنتا ہے۔
- اسم مفعول (B): یہ وہ اسم ہے جو اس چیز کو ظاہر کرتا ہے جس پر کام واقع ہو، جیسے "لکھا ہوا"۔ یہ بھی مصدر سے بنتا ہے۔
- اسم صفت (D): یہ وہ اسم ہے جو کسی اسم کی خوبی یا خامی بیان کرے، جیسے "اچھا" یا "برا"۔ اس کا تعلق مصدر کی تعریف سے نہیں۔