تاریخی پس منظر اور تفصیل
مولانا محمد علی جوہر کی وفات اور تدفین سے متعلق معلومات کو الجھن سے بچانے کے لیے دو حصوں میں سمجھنا ضروری ہے۔ اکثر طالب علم ان کی جائے وفات (انگلستان) اور جائے تدفین (فلسطین) میں فرق نہ کر پانے کی وجہ سے غلطی کرتے ہیں۔ کوئز کا سوال چونکہ مدفن (جائے تدفین) کے بارے میں ہے، اس لیے درست جواب فلسطین ہی ہے۔
1۔ جائے وفات: لندن (انگلستان)
مولانا محمد علی جوہر برصغیر پاک و ہند کی آزادی کے لیے پہلی گول میز کانفرنس (Round Table Conference) میں شرکت کے لیے لندن گئے ہوئے تھے۔ وہاں انہوں نے اپنا تاریخی جملہ کہا تھا کہ "اگر تم ہندوستان کو آزادی نہیں دے سکتے تو تمہیں مجھے یہاں دفن کرنے کے لیے جگہ دینی ہوگی۔" اسی دوران 4 جنوری 1931ء کو لندن، انگلستان میں ان کا انتقال ہوا۔
2۔ جائے تدفین: یروشلم (فلسطین)
وفات کے بعد ان کے جسدِ خاکی کو برصغیر واپس لانے کے بجائے، مفتی اعظم فلسطین (سید امین الحسینی) کی دعوت پر فلسطین منتقل کیا گیا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں مسلمانوں کے قبلہ اول مسجدِ اقصیٰ (بیت المقدس)، فلسطین کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی قبر پر لگی تختی پر آج بھی "ہذا قبر السید محمد علی الہندی" لکھا ہوا ہے۔
خلاصہ (Demographic Summary)
| واقعہ | ملک / شہر | تاریخ | اہم تفصیل |
|---|---|---|---|
| وفات | لندن، انگلستان | 4 جنوری 1931ء | گول میز کانفرنس کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوا۔ |
| تدفین (مدفن) | یروشلم، فلسطین | 23 جنوری 1931ء | مسجدِ اقصیٰ کے احاطے (حرم الشریف) میں دفن کیے گئے۔ |
The right answer is A. Palestine