Correct Answer:
B. واوین
Correct answer: واوین. کسی کا قول نقل کرنے کے لیے واوین (” “) استعمال ہوتے ہیں۔
پس منظر: جب کسی کا قول جوں کا توں نقل کیا جائے تو واوین (” “) لگائے جاتے ہیں۔
- فل سٹاپ: فل سٹاپ جملے کے اختتام پر آتا ہے۔
- سوالیہ: سوالیہ علامت سوال کے آخر میں آتی ہے۔
- کوما: کوما جملے میں وقفے کے لیے آتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟ مثال: علامہ اقبالؒ نے کہا: ”خودی کو کر بلند اتنا۔۔۔“۔
یاد رکھنے کی ترکیب: قول = واوین۔
Is this answer helpful and correct?
0 agree0 disagree