مطلع غزل کا نقیب ہوتا ہے جس طرح نقیب بادشاہ کی آمد کا اعلان کرتا ہے اسی طرح مطلع ایک ایسا آہنگ قائم کرتا ہے جس کی فضا میں باقی اشعار اپنا رنگ جماتے ہیں
۔ غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
۔ کسی طرح جو نہ اس بت نے اعتبار کیا
مری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا
۔ ہنسا ہنسا کے شب وصل اشک بار کیا
۔ تسلیاں مجھے دے دے کے بے قرار کیا
یہ کس نے جلوہ ہمارے سر مزار کیا
۔ تجھے تو وعدہ دیدار ہم سے کرنا تھا
یہ کیا کیا کہ جہاں کو امید وار کیا
ان اشعار میں پہلا شعر مطلع اور دوسرا مطلعِ ثانی ، تیسرا شعر مطلع ثالث اور چوتھا شعر حسن مطلع کہلاتا ہے کہ کیونکہ اس کے بعد عام شعر یعنی اس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف نہیں ۔ اسی طرح غزل کا سب سے بہترین شعر بیت الغزل کہلاتا ہے ۔
جیسا کہ مومن خان مومن کی غزل کا شعر
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
ان کی غزل کا بیت الغزل شعر کہلاتا ہے۔
محمد عظمت اللہ خان دہلی میں 1887ء میں پیدا ہوئے۔ وہ جدید طرز کی اردو شاعری اور نئے شعری تجربوں کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی کتاب سُریلے بول اس خصوص میں ایک سنگ میل تصور کی جاتی ہے۔
علامہ اقبال کے یہ اشعار ان کی مشہور نظم زوق و شوق سے لیے گیے ہیں۔ جو کہ ان کے مجموعہ کلام بال جبریل میں موجود ہے۔ قبال پر یہ نظم سن 1931 میں قیامِ فلسطین کے دوران وارد ہونا شروع ہوئی تھی۔ اقبال فلسطین میں براستہ لندن پہنچے تھے۔ لندن میں وہ دوسری گول میز کانفرنس (7 ستمبر تا یکم دسمبر1931ء) میں مسلمان مندوب کی حیثیت میں شریک ہوئے تھ