مطلع غزل کا نقیب ہوتا ہے جس طرح نقیب بادشاہ کی آمد کا اعلان کرتا ہے اسی طرح مطلع ایک ایسا آہنگ قائم کرتا ہے جس کی فضا میں باقی اشعار اپنا رنگ جماتے ہیں
۔ غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
۔ کسی طرح جو نہ اس بت نے اعتبار کیا
مری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا
۔ ہنسا ہنسا کے شب وصل اشک بار کیا
۔ تسلیاں مجھے دے دے کے بے قرار کیا
یہ کس نے جلوہ ہمارے سر مزار کیا
۔ تجھے تو وعدہ دیدار ہم سے کرنا تھا
یہ کیا کیا کہ جہاں کو امید وار کیا
ان اشعار میں پہلا شعر مطلع اور دوسرا مطلعِ ثانی ، تیسرا شعر مطلع ثالث اور چوتھا شعر حسن مطلع کہلاتا ہے کہ کیونکہ اس کے بعد عام شعر یعنی اس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف نہیں ۔ اسی طرح غزل کا سب سے بہترین شعر بیت الغزل کہلاتا ہے ۔
Explanation:
یہاں کچھ سے مراد زمین پر پڑا ہوا روپیہ ہے۔ بنئے کا ہوشیار بیٹا سڑک پر یونہی نہیں گرتا بلکہ اس بہانے زمین پر پڑا ہوا روپیہ اٹھا لیتا ہے۔ کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ چالاک اور عیار آدمی کا کوئی کام اپنے فائدے سے خالی نہیں ہوتا ہے۔